ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آر کے ماتھر نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر حلف لیا

آر کے ماتھر نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر حلف لیا

Thu, 31 Oct 2019 18:57:06    S.O. News Service

لیہہ،31اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق افسرشاہ رادھا کرشن ماتھر نے جمعرات کو مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ جموں وکشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا ہے۔ماتھر اگلے ماہ 66 سال کے ہو جائیں گے۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس گیتا متل نے لیہہ کے تسورو میں ایک تقریب میں ماتھر کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس تقریب میں لیہہ اور کارگل پہاڑی ترقی کونسل کے افسران، فوج اور نیم فورس، مذہبی رہنما اور عام لوگ شامل ہوئے۔حلف برداری کے بعد لداخ پولیس نے ماتھرکو گارڈ آف آنر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں ترقی کی کئی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے گورنر کے حوالے سے کہاکہ علاقے میں بہت سے سرکاری پروگرام پہلے سے چل رہے ہیں، نئے حکومت کے تحت عام لوگوں اور ترقی کونسلوں سے بات چیت کے بعد لداخ کے لئے نئی ترجیحات طے کی جائیں گی۔ماتھر تریپورہ سے 1977 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔انہوں نے کہا کہ تریپورہ کا چیف سکریٹری رہتے ہوئے پسماندہ اور سرحدی علاقوں میں کام کرنے کا تجربہ اور دفاعی سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ان کے کام آئے گا۔انہوں نے آئی آئی ٹی سے انڈسٹریل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ سال 2015 میں سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ اسی سال دسمبر میں انہیں چیف انفارمیشن کمشنر بنایا گیا۔ گزشتہ سال 65 سال کی عمر ہونے کے ساتھ ہی نومبر میں ان کی مدت کار بھی مکمل ہوگئی۔حلف برداری سے پہلے مرکزی وزارت داخلہ نے گزشتہ سال دسمبر ماہ سے غیر منقسم جموں و کشمیر میں لگا صدر راج ہٹا دیا تھا۔لداخ کے مرکز کے زیر انتظام ریاست کے طور پر وجود میں آنے سے ایک دن پہلے بدھ کو مرکز نے سینئر آئی اے ایس افسر امنگ نرولا کو اس ہمالیائی علاقے کے نئے منتخب نائب گورنر کا مشیر مقرر کیا۔نرولا 1989 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔اسی کے ساتھ ہی 1995 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایس ایس ککھنڈارے کو مرکز کے زیر انتظام ریاست لداخ کا پولیس چیف مقرر کیا گیا ہے۔تقریبا تین لاکھ کی آبادی والے لداخ کی سرحدیں پاکستان اور چین سے ملتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ علاقہ بہت اہم ہے۔


Share: